Anjaam-e Baharan

 980
Picture of Adalet Agaoglu

Adalet Agaoglu

انجامِ بہاراں

مایہ ناز ترک ادیبہ کا ناول

انجامِ بہاراں: عدالت آ عولو کے ناول  کا اردو ترجمہ ہے۔ عدالت آعولو دورِحاضر کے اہم ترین ادیبوں میں شمار کی جاتی ہیں اور اب تک ان کے 8ناولوں کے ساتھ ساتھ ان کی یادداشتیں، افسانوی اور مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ یہ ناول ترکی میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ایک قدیم شہر میں چھٹیاں گزرتے کرداروں کی کہانی سناتا ہے۔ ناول میں ثقافتی اقدار، جدید ترک معاشرے، سیاست اور کرداروں کی ذاتی نفسیاتی الجھنوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔یہ عدالت آعولو کا معروف ترین ناول ہے۔

اس الم ناک ناول کا آغاز نوین نامی عورت کے جنوب مغربی ترکی کے بحیرۂ روم کے کنارے ایک قدیم شہر سیدہ پہنچنے پر ہوتا ہے، جس کا بیٹا گونے کئی برس قبل استنبول یونیورسٹی کے پہلے سال میں ایک سیاسی جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔یاد رہے کہ ’’گونے‘‘ کو اس کے لفظی مطلب ’’جنوب‘‘ میں استعمال کیا گیا ہے۔

اگرچہ تفصیلات مبہم ہیں لیکن اس ذاتی غم کو 1970ء کی دہائی کے اواخرکے ترکی کے سیاسی حالات کے استعارے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ترکی میں دائیں اور بائیں بازو کی بنیاد پر پُر تشدد رحجانات اپنے عروج پر تھے۔اس ناول میں جہاں معاشی اور سماجی تفریق کو موضوع بنایا گیا ہے، وہیں اربنائزیشن کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے

Author

انجامِ بہاراں

مایہ ناز ترک ادیبہ کا ناول

انجامِ بہاراں: عدالت آ عولو کے ناول  کا اردو ترجمہ ہے۔ عدالت آعولو دورِحاضر کے اہم ترین ادیبوں میں شمار کی جاتی ہیں اور اب تک ان کے 8ناولوں کے ساتھ ساتھ ان کی یادداشتیں، افسانوی اور مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ یہ ناول ترکی میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ایک قدیم شہر میں چھٹیاں گزرتے کرداروں کی کہانی سناتا ہے۔ ناول میں ثقافتی اقدار، جدید ترک معاشرے، سیاست اور کرداروں کی ذاتی نفسیاتی الجھنوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔یہ عدالت آعولو کا معروف ترین ناول ہے۔

اس الم ناک ناول کا آغاز نوین نامی عورت کے جنوب مغربی ترکی کے بحیرۂ روم کے کنارے ایک قدیم شہر سیدہ پہنچنے پر ہوتا ہے، جس کا بیٹا گونے کئی برس قبل استنبول یونیورسٹی کے پہلے سال میں ایک سیاسی جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔یاد رہے کہ ’’گونے‘‘ کو اس کے لفظی مطلب ’’جنوب‘‘ میں استعمال کیا گیا ہے۔

اگرچہ تفصیلات مبہم ہیں لیکن اس ذاتی غم کو 1970ء کی دہائی کے اواخرکے ترکی کے سیاسی حالات کے استعارے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ترکی میں دائیں اور بائیں بازو کی بنیاد پر پُر تشدد رحجانات اپنے عروج پر تھے۔اس ناول میں جہاں معاشی اور سماجی تفریق کو موضوع بنایا گیا ہے، وہیں اربنائزیشن کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے

Author

Book Author

ISBN

No. of Pages

Format

Publishing Year

Language

Translator

Huma Anwar

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Anjaam-e Baharan”

Jumhoori Publications

Jumhoori Publications delivers thought-provoking works in politics, philosophy, and culture.
Connecting global voices, it promotes knowledge, dialogue, and progressive ideas.

Useful Information

Contact Info.

Ⓒ 2025  powered by AXCESS

Sales

Typically replies within a day

Hello, Welcome to Jumhoori Publications. Please click below to order via WhatsApp.

Scroll to Top