Aitraaf

 2,500
Categories: ,

اعتراف۔سیاست اور ٰقتدار کی اَن کہی کہانیاں
سیاست میں دلچسپی رکھنے والے بیشتر افراد راجہ منور احمد کو ایک زیرک، فعال اور ہردور میں سرگرم عمل رہنے والے سیاست دان کے طور پر جانتے اور پہچانتے ہیں لیکن راجہ منوراحمد کی تصنیف ’’ اعتراف‘‘ہم سے اُن کا ایک نیاتعارف کرواتی ہے ۔ یہ تصنیف کسی سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کی فکری کاوش کا نتیجہ ہے جس نے ہر سُو ایک گہری نظر ڈالی اور سچ کی حقیقت میں اُتر کر گوہر نایاب کی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے ۔ حقیقی ’’ اعتراف ‘‘ وہی کر سکتا ہے جو سچ بولنے کےلیے تیار ہو۔ رومی نے کہا تھا کہ تم سمندر کا ایک قطرہ نہیں ، بلکہ تم ایک قطرہ ہو جس میں پورا سمندر غرقیدہ ہے ۔ علامہ اقبال نے اسے بڑی خوبصورتی سے ایک مصرع میںپرودیا ، اور کہا ، ’’ ہر قطرہ دریا میں دریا کی ہے گہرائی۔ ‘‘ راجہ منور احمد نے اس کتاب میں کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں ، اور پھر ان کی گہرائی میں اتر کر جواب بھی تلاش کیے ہیں ۔ یہ ’’ اعتراف ‘‘کسی سیاست کار کی سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تلاشِ جستجو ہے جو مقصود حیات کامتلاشی ہے ۔ فطری اعتراف کے مقام کو وہی پا سکتا ہے جو سچ بولنے کے لیے تیار ہو، اور مصنف نے یہی کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ انھوں نے سچ کو ہر زاویے سے پرکھاہے، سوال اٹھائے اور جواب تلاش کیے ہیں ۔ اکثر اوقات لوگ سوال اٹھاتے ہیں پر جواب نہیں دے پاتے۔ مگر’’ اعتراف ‘‘ میں ہمیں سوال بھی ملتے ہیں اور جواب بھی ۔ جب ایک شخص اعتراف کرتا ہے تو پھر وہ سارے ڈر اور خوف کو بالائے طاق رکھ کر سچ کہتا ہے ۔ اس کے اسلوب میں آفاق و انفس، ظاہر و باطن ،حقیقت اورخواب شیر و شکر ہوجاتے ہیں ۔

Author

اعتراف۔سیاست اور ٰقتدار کی اَن کہی کہانیاں
سیاست میں دلچسپی رکھنے والے بیشتر افراد راجہ منور احمد کو ایک زیرک، فعال اور ہردور میں سرگرم عمل رہنے والے سیاست دان کے طور پر جانتے اور پہچانتے ہیں لیکن راجہ منوراحمد کی تصنیف ’’ اعتراف‘‘ہم سے اُن کا ایک نیاتعارف کرواتی ہے ۔ یہ تصنیف کسی سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کی فکری کاوش کا نتیجہ ہے جس نے ہر سُو ایک گہری نظر ڈالی اور سچ کی حقیقت میں اُتر کر گوہر نایاب کی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے ۔ حقیقی ’’ اعتراف ‘‘ وہی کر سکتا ہے جو سچ بولنے کےلیے تیار ہو۔ رومی نے کہا تھا کہ تم سمندر کا ایک قطرہ نہیں ، بلکہ تم ایک قطرہ ہو جس میں پورا سمندر غرقیدہ ہے ۔ علامہ اقبال نے اسے بڑی خوبصورتی سے ایک مصرع میںپرودیا ، اور کہا ، ’’ ہر قطرہ دریا میں دریا کی ہے گہرائی۔ ‘‘ راجہ منور احمد نے اس کتاب میں کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں ، اور پھر ان کی گہرائی میں اتر کر جواب بھی تلاش کیے ہیں ۔ یہ ’’ اعتراف ‘‘کسی سیاست کار کی سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تلاشِ جستجو ہے جو مقصود حیات کامتلاشی ہے ۔ فطری اعتراف کے مقام کو وہی پا سکتا ہے جو سچ بولنے کے لیے تیار ہو، اور مصنف نے یہی کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ انھوں نے سچ کو ہر زاویے سے پرکھاہے، سوال اٹھائے اور جواب تلاش کیے ہیں ۔ اکثر اوقات لوگ سوال اٹھاتے ہیں پر جواب نہیں دے پاتے۔ مگر’’ اعتراف ‘‘ میں ہمیں سوال بھی ملتے ہیں اور جواب بھی ۔ جب ایک شخص اعتراف کرتا ہے تو پھر وہ سارے ڈر اور خوف کو بالائے طاق رکھ کر سچ کہتا ہے ۔ اس کے اسلوب میں آفاق و انفس، ظاہر و باطن ،حقیقت اورخواب شیر و شکر ہوجاتے ہیں ۔

Author

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Aitraaf”

Jumhoori Publications

Jumhoori Publications delivers thought-provoking works in politics, philosophy, and culture.
Connecting global voices, it promotes knowledge, dialogue, and progressive ideas.

Useful Information

Contact Info.

Ⓒ 2025  powered by AXCESS

Sales

Typically replies within a day

Hello, Welcome to Jumhoori Publications. Please click below to order via WhatsApp.

Scroll to Top