Chalay Aao Bulgaria!

چلے آئو بلغاریہ

چلے آﺅ بلغاریہ! بلغاریہ کا دلچسپ سفرنامہ ہے جس میں مصنف نے اپنے دو سفروں کا احوال بیان کیا ہے۔ بلغاریہ کا پہلا سفر مصنف نے 1983ءمیں کیا تھا کہ جب اصل کمیونزم اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا اور پولینڈ میں مارشل لاءنافذ کرکے کمیونزم کو پولینڈ میں آکسیجن دینے کی ناکام کوششیں کی جارہی تھیں اور سارے مشرقی یورپ پر ایک سکوت کا سماں تھا۔

دوسرا سفر حال ہی میں کیاگیا جس کا سبب سیاحت کے علاوہ دو نکات تھے، ایک ناسٹلجیا اور دوسرا بلغاریہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد کا بلغاریہ، یعنی ”کھلی منڈی کی جمہوریت“ کا بلغاریہ دیکھنا۔ کتاب میں بلغاریہ کی تاریخ و ثقافت،وہاں سوشلسٹ نظام کی خامیوں اور خوبیوں اور کمیونزم کے خاتمے کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

Author

چلے آئو بلغاریہ

چلے آﺅ بلغاریہ! بلغاریہ کا دلچسپ سفرنامہ ہے جس میں مصنف نے اپنے دو سفروں کا احوال بیان کیا ہے۔ بلغاریہ کا پہلا سفر مصنف نے 1983ءمیں کیا تھا کہ جب اصل کمیونزم اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا اور پولینڈ میں مارشل لاءنافذ کرکے کمیونزم کو پولینڈ میں آکسیجن دینے کی ناکام کوششیں کی جارہی تھیں اور سارے مشرقی یورپ پر ایک سکوت کا سماں تھا۔

دوسرا سفر حال ہی میں کیاگیا جس کا سبب سیاحت کے علاوہ دو نکات تھے، ایک ناسٹلجیا اور دوسرا بلغاریہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد کا بلغاریہ، یعنی ”کھلی منڈی کی جمہوریت“ کا بلغاریہ دیکھنا۔ کتاب میں بلغاریہ کی تاریخ و ثقافت،وہاں سوشلسٹ نظام کی خامیوں اور خوبیوں اور کمیونزم کے خاتمے کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

Author

Book Author

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Chalay Aao Bulgaria!”

Jumhoori Publications

Jumhoori Publications delivers thought-provoking works in politics, philosophy, and culture.
Connecting global voices, it promotes knowledge, dialogue, and progressive ideas.

Useful Information

Contact Info.

Ⓒ 2025  powered by AXCESS

Sales

Typically replies within a day

Hello, Welcome to Jumhoori Publications. Please click below to order via WhatsApp.

Scroll to Top