انسانی منظرنامہ
ترکی کے عظیم انقلابی شاعر کا طویل منظوم رزمیہ ناول
ناظم حکمت پہلے جدید ترک شاعر ہیں اور ان کا شمار پوری دنیا میں بیسویں صدی کے عظیم ترین عالمی شعرا میں ہوتا ہے۔ ترکی اور دنیا بھرمیں وہ بہت معروف ہیں اور تنقیدی اعتبار سے ان کو ترکی زبان کے بہترین شعرا میں سے ایک بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شاہکار طویل منظوم ناول ”انسانی منظرنامہ“ میں دانشوروں کا یہ اتفاق واضح ہو جاتا ہے۔
ناظم حکمت کی شاعری طبقاتی تضادات اور سماجی انصاف کے گرد گھومتی ہے۔ نظریاتی طور پر ناظم حکمت سوشلسٹ تھے جنہوں نے ترک شاعری کو انقلابی رنگ دیا اور عثمانی ادبی روایات کو ترک کرکے آزاد شاعری متعارف کروائی۔ لمبے عرصے تک پابند سلاسل رہنے کی وجہ سے ناظم حکمت کو ”عوامی شاعر“ ہونے کی اچھی تعلیم ملی اور اس تجربہ نے انہیں ” انسانی منظرنامہ“ لکھنے کے قابل بنایا۔ یہ رزمیہ برصہ کے قید خانے سے حقیقی زندگی پر مبنی کرداروں سے بھری پڑی ہے۔
انسانی منظرنامے میں تبدیلی اس کے مقصد کا بیش قیمت اندرونی علم دیتی ہے۔ ”انسانی منظرنامہ“ ناظم حکمت کی طویل رزمیہ نظم ہیومین لینڈسکیپ فرام مائ کنٹری کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ منوبھائی کے قلم کی دین ہے۔ یہ ایک منظوم ناول ہے جس میں ناظم حکمت نے ترکی اور وہاں کے عام لوگوں اور ان کی زندگیوں کا متاثرکن نقشہ کھینچا ہے۔

Reviews
There are no reviews yet.