Meri Akhri Jang

 680

میری آخری جنگ

افغانستان، سوویت فوج کے انخلا کے بعد

افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی آمد، کابل میں اس وقت قائم اشتراکی حکومت کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے کے تحت ہوئی۔ سرخ فوج کی آمد کابل حکومت کے خلاف اسلامی بنیاد پرست مسلح گروہوں کی طرف سے جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کا نتیجہ تھا، جس کے بارے میں امریکی صدر کے سلامتی کے مشیر برزنسکی نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت سرخ فوج کو افغانستان میں مداخلت کے لیے ٹریپ کیا۔

افغانستان میں مذہبی بنیاد پرستوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اوراس کے بعد سرخ فوج کی آمد کے بعد امریکہ نے ایک عالمی اتحاد قائم کرکے دنیا بھر سے مذہب کے نام پر لوگوں کواکٹھا کرکے سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کیا، جس کو سی آئی نے افغان جہاد کے نام سے متعارف کروایا۔

ابھی تک سوویت یونین کی اس فوجی مداخلت کے حوالے سے ہمارے ہاں صرف دو قسم کے نکتہ ہائے نظر سامنے آئے،جن میں سے ایک امریکیوں اوراس کے اتحادی پاکستان کے پالیسی سازوں اور ان کے تربیت یافتہ ’’مجاہدین‘‘ اوران کے حمایتی دانشوروں کا ہے۔ یہ اُردو میں شائع ہونے والی پہلی ایسی کتاب ہے جس میں سرخ فوج کے ایک جرنیل نے اس حوالے سے قلم اُٹھایا ہے۔ روسی زبان سے براہ راست اردو میں ترجمہ کی گئی یہ کتاب یقینااس اہم موضوع پر ایک منفرد تحریر ثابت ہو گی۔

Author

میری آخری جنگ

افغانستان، سوویت فوج کے انخلا کے بعد

افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی آمد، کابل میں اس وقت قائم اشتراکی حکومت کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے کے تحت ہوئی۔ سرخ فوج کی آمد کابل حکومت کے خلاف اسلامی بنیاد پرست مسلح گروہوں کی طرف سے جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کا نتیجہ تھا، جس کے بارے میں امریکی صدر کے سلامتی کے مشیر برزنسکی نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت سرخ فوج کو افغانستان میں مداخلت کے لیے ٹریپ کیا۔

افغانستان میں مذہبی بنیاد پرستوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اوراس کے بعد سرخ فوج کی آمد کے بعد امریکہ نے ایک عالمی اتحاد قائم کرکے دنیا بھر سے مذہب کے نام پر لوگوں کواکٹھا کرکے سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کیا، جس کو سی آئی نے افغان جہاد کے نام سے متعارف کروایا۔

ابھی تک سوویت یونین کی اس فوجی مداخلت کے حوالے سے ہمارے ہاں صرف دو قسم کے نکتہ ہائے نظر سامنے آئے،جن میں سے ایک امریکیوں اوراس کے اتحادی پاکستان کے پالیسی سازوں اور ان کے تربیت یافتہ ’’مجاہدین‘‘ اوران کے حمایتی دانشوروں کا ہے۔ یہ اُردو میں شائع ہونے والی پہلی ایسی کتاب ہے جس میں سرخ فوج کے ایک جرنیل نے اس حوالے سے قلم اُٹھایا ہے۔ روسی زبان سے براہ راست اردو میں ترجمہ کی گئی یہ کتاب یقینااس اہم موضوع پر ایک منفرد تحریر ثابت ہو گی۔

ISBN

No. of Pages

Format

Publishing Year

Language

Translator

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Meri Akhri Jang”

Jumhoori Publications

A Tradition of Excellence in Progressive Publishing

Useful Information

Contact Info.

Ⓒ 2025  powered by AXCESS

Sales

Typically replies within a day

Hello, Welcome to Jumhoori Publications. Please click below to order via WhatsApp.

Scroll to Top