بے نام۔اپنی دھرتی سے بچھڑے کردار کی کہانی
یڈیا دمکو سکامقدونیہ کی معروف ادیبہ ہیں۔ انہوں نے بخارسٹ یونیورسٹی رومانیہ سے ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بحیثیت ادیبہ وہ یورپ میں ان ادیبوں میںشمار ہوتی ہیں، جنہوں نے سردجنگ کے بعد جنم لینے والی دنیا میں نئے موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی مختلف کتابوں کے دنیا کی 15 سے زائد زبانوں میںتراجم ہو چکے ہیں۔ انہیں2013 ء میںیورپی یونین ادب ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
زیرِ نظر ناول مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپیہ کی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتا ہے۔ بکھرے ہوئےخاندان کی کہانی، ایک نرگسیت پسند ماں اور لاتعلق باپ، جو قبرص سے سکوپیہ ہجرت کرکے آآباد ہوا، ایک ایسا باپ جو کبھی اپنے ماضی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، پھر وہ خود سے سوال کرنے لگتی ہے کہ اس کا باپ اپنے ماضی کے بارےمجھ سے بات کیوں نہیں کرتا اوراس نے اپنے ماضی سےکیوں تعلق منقطع کر رکھا ہے؟ایک دن جب وہ اس کہانی کے سرے تلاش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو کئی گمشدہ کردار ،جو ہجرت کے سبب بے نام ہو چکےتھے، ان تک رسائی، اُسےورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
سکندر اعظم کی سرزمین ِ مقدونیہ میںلکھا گیا یہ ناول اُردو ادب میں ایک یادگار ناول کے طور پر جاناجائے گا۔
زیرِ نظر ناول مقدونیہ کے دارالحکومت سکوپیہ کی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتا ہے۔ بکھرے ہوئےخاندان کی کہانی، ایک نرگسیت پسند ماں اور لاتعلق باپ، جو قبرص سے سکوپیہ ہجرت کرکے آآباد ہوا، ایک ایسا باپ جو کبھی اپنے ماضی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، پھر وہ خود سے سوال کرنے لگتی ہے کہ اس کا باپ اپنے ماضی کے بارےمجھ سے بات کیوں نہیں کرتا اوراس نے اپنے ماضی سےکیوں تعلق منقطع کر رکھا ہے؟ایک دن جب وہ اس کہانی کے سرے تلاش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو کئی گمشدہ کردار ،جو ہجرت کے سبب بے نام ہو چکےتھے، ان تک رسائی، اُسےورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
سکندر اعظم کی سرزمین ِ مقدونیہ میںلکھا گیا یہ ناول اُردو ادب میں ایک یادگار ناول کے طور پر جاناجائے گا۔

Reviews
There are no reviews yet.