ویکھ اپنا پنجاب۔تمدن،روایت اور شہریت کا سفر(حصہ اول)
زیرِ نظر کتاب کا پہلا حصہ آپ کے مطالعے کے لیے پیش ہے، جس میں پنجاب کی صدیوں پر محیط تاریخ اور تہذیبی ارتقا کا جامع بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں متحدہ پنجاب کے تمام اہم اور نسبتاً کم معروف شہروں کا مفصل احوال قلمبند کیا گیا ہے۔ اس حصے میں قاری کو بھارتی پنجاب، بشمول ہریانہ، کے بارے میں بھی دلچسپ اور معلومات افزا مواد فراہم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دونوں حصوں میں’’پنجاب‘‘سے مراد وہ تاریخی و تہذیبی وحدت ہے جسے ہم’’متحدہ پنجاب‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کی حدود میں موجودہ ہندوستانی ریاستیں ہریانہ، مشرقی پنجاب (چڑھدا پنجاب)، پاکستانی پنجاب (لہندا پنجاب)، ہماچل پردیش، اور ہزارہ کا علاقہ شامل ہیں۔ بعض مؤرخین اور محققین کے مطابق پنجاب کی جغرافیائی حدود دریائے جمنا سے لے کر پشاور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ راقم نے دہلی کے ایک ریستوران کی دیوار پر بنا ہوا ایسا ہی نقشہ بھی مشاہدہ کیا ہے، جو اس تاریخی تصور کی تائید کرتا ہے۔ میری تحقیق اور فہم کے مطابق پنجاب کی حدود جمنا سے لے کر دریائے اٹک تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شمال میں یہ خطہ ہمالیہ کے دامن تک، اور جنوب میں صحرائے راجستھان تک وسیع تھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ، انتظامی تقسیمات کے باعث، اس کی جغرافیائی شناخت میں نمایاں تبدیلیاں آتی رہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہدِ حکومت میں پنجاب کی حدود دریائے ستلج کے مغرب تک محدود تھیں۔ بعد ازاں انگریزوں نے سب سے پہلے دہلی کو پنجاب سے جدا کیا، ہماچل پردیش کا کچھ حصہ شامل کیا، اور صوبہ سرحد کی تشکیل کے وقت ہزارہ کو پنجاب سے الگ کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پنجاب دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، اور بھارت نے اس کے کچھ علاقوں کو ’’ہریانہ‘‘ کا نام دیا۔

Reviews
There are no reviews yet.