ٹونا کیریمیچی کےاس ناول کی کہانی ایک سکول کے سابق طلبہ کی ہلاکتوںکے گرد گھومتی ہے ۔ اپنی طالب علمی کے دور میں وہ’’ فرشتے‘‘ نام کا ایک گروہ کہلاتے تھے ۔ وہ دیگر طلبہ کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کرتے تھے ۔ لگتا تھا جیسے سکول میں اپنے مخصوص نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ کئی عشروں بعد ان فرشتوں میں سے چار افراد یکے بعد دیگرے انتہائی سفاکی سے قتل کر دیے جاتے ہیں ۔ پولیس انسپکٹر پریحان اور اس کی ٹیم اس کیس کو ہاتھ میں لیتی ہے۔ انتہائی سنسنی خیز اور صبر آزما تفتیش کے بعد وہ کھوج لگا لیتی ہے کہ قاتل باقی دو بچ جانے والے فرشتوں میں سے ایک ہے ۔ گرفتار ہونے پر قاتل بتاتا ہے کہ کس طرح ’’بڑے بھائیوں ‘‘نے ان کے ذہن مسخ کر دیے تھے ۔ ان کے ذہن میں تنگ نظری اور جنونیت کے تصورات انڈیلے ۔ ان کی سوچوں میں زہر بھر دیا ۔ اب ضروری تھا کہ اس مسخ شدہ ذہنیت کو ختم کردیا جائے ۔ اس لیے اس نے یہ قدم اٹھایا ۔
یہ ایک علامتی ناول ہے ۔ یہ ترک معاشرے میں سرائیت کر جانے والی فسطائیت پر تنقید ہے ۔ بڑے بھائی وہ دھڑا ہے جو تُرک سماج کو نازی فسطائیت کی راہ پر چلانا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف اس کے خلاف مزاحمت بھی جاری ہے ۔ یہ مزاحمت خود ترک خون میں رچی بسی ہے ۔ اس طرح یہ جرم کی کہانی دراصل سماجی کشمکش کی علامت ہے جس سے ہر معاشرہ اپنی تاریخ کے کسی نہ کسی دور میں گزرتا ہے ۔

Reviews
There are no reviews yet.