’’فریب در فریب ‘‘ نہایت ہی اہم سماجی پہلوؤں اور انسان کی اس دھوکے بازی کو بیان کرتا ہے جہاں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا’’ باہمی عمل‘‘ ہے۔ ترکی کے مشہورساحلی شہر انطالیہ سے یہ کہانی شروع ہوتی ہے جس کا دوسرا سرا سوئٹزرلینڈ جا ملتا ہے یہ جذبات کی فروخت کی کہانی ہے،جوایک جیولری کی دکان سے شروع ہوتی ہے۔ جہاں ہیرے، سونا اور چاندی کےزیورات کی فروخت کے اندرانسانی خواہشات فریب کی علامت ہیں۔ ترک کوزان نامی سیلزمین اپنے گاہکوں کو ہر چیز بیچنے کی سفاک مہارت رکھتا ہےچاہے اس کے لیے اپنا ضمیر کیوں نہ بیچنا پڑے۔
حاقان گوندائے کا یہ ناول’’ فریب در فریب‘‘ ایک سنار کی دکان تک محدود کہانی ہی نہیں، بلکہ آج کی عالمگیری منڈی کے سفاکانہ تحرکات کو بے نقاب کرنے کی کہانی ہے، جس میں ان سفاکیوں کوطنز کے ذریعہ بیان کہا گیا ہے کہ کیسےانطالیہ کے ساحلوں میں آنے والے سیاح جو مختلف ممالک سے آتے ہیں انہی میںمہذب ترین ملک سویٹزرلینڈ بھی ہے۔ ناول نگاران کے ساتھ ہونے والی سفاکی اور فریب کا ذکرکرنا ہےکہ مہذب ملک سویٹزرلینڈ کے سیاح جو دوسرے گاہکوں کی طرح مقامی دکانداروں کی سفاکی کا نشانہ بنتے ہیںلیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہانی اُن کی سفاکی کا بھی بھانڈہ پھوڑ کے رکھ دیتی ہے کہ دنیا کا یہ خوشحالی ترین ملک کیسے دنیا بھر کی لوٹی ہوئی دولت کا محفوظ مقام ہے اور اس کےشہری اس سفاکی اور فریب سے مستفید ہونے والے شہری ہیں۔ ’’ فریب در فریب‘‘ اردو ادب میں بالکل ایک نیا اضافہ ہے۔ جمہوری پبلیکیشنز کو ہمیشہ کی طرح یہ اعزاز حاصل رہاہے کہ اس ادارے نے دنیا کا ترقی پسند ہم عصر ادب متعارف کروانے میں شاندار ادبی کردار ادا کیا ہے ’’فریب در فریب‘‘ آج کی عالمگیریت اور منڈی کے حوالے سے نہایت ہی دلچسپ اور چشم کشاناول ہے۔

Reviews
There are no reviews yet.